Monday, September 21, 2020

تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے Top 20 Famous Urdu sher on Yaad

 

تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے 


تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے 
میرے کردار پر کی ہر بدگمانی یاد ہے مجھے
تجھے میرا سچ میں رونا بھی بھول گیا ہوگا
مگر جھوٹ میں تیری آنکھوں سے بہتا پانی یاد ہے مجھے
تجھے مسکراتا دیکھ کر میں اپنے غم بھول جاتا تھا
اور تیری مسکراہٹ کی ہر وجہ منہ زبانی یاد ہے مجھے
تیرا روٹھنا میرا منانا پھر سے تیرا روٹھ جانا 
تجھے ہو نہ ہو ہر بات پرانی یاد ہے مجھے 
تم بھی جھوٹے تھے تیری محبت بھی جھوٹی تھی
مطلب نکالنے کیلیے سنائی تیری ہر جھوٹی کہانی یاد ہے مجھے
آج بھی آپ کی تعریفیں کرتے تھکتے نہیں ہیں 
حتی کہ آپ کی ہر غلط بیانی یاد ہے مجھے
صفدر حسین

Urdu Poetry, Famous Poets مرے چاند!

 

 مرے چاند!


اماوَس کی کلفت زدہ شب

بہر سُو سِیَہ رُو ردائے کدورت تَنی ہے

ضیاؤں کی سب طرہ بردوش شمعیں

بجھی جا رہی ہیں


اِدھر نیم کشتہ چراغوں سے 

یلغارِ دُودِ کثیف

اس طرح آسماں کی طرف اٹھ رہی ہے

کہ حسرت کی آہوں کا پر شور نالہ رواں ہو

یہ تیرہ شبی! 

جبکہ فطرت کا ماہِ منوّر بھی

گمنامیوں کی چپٹتی ہوئی دلدلوں میں

دھنسا جا چکا ہے


مرے ماہتابِ فروزندہ! 

آ جا! 

غنودہ و خوابیدہ ماحول میں

تیری قربت کے لمحوں کی آہٹ

مرے خوابِ امید کو

گدگداتے ہوئے یوں رگِ جاں سے

چمٹی ہوئی ہے

کہ ہَستی ہو اک چاہِ نخشب

اور اس سے ابھرتا ہوا آفتابی نظارہ

مہِ پرنِیاں میں ترا عکسِ بے زنگ

جلووں کا قرعہ نکالے

تو مجھ پر نظر آ کے بیٹھے


مرے چاند!

طاسک پہ عریاں تو ہو!

میرے طورِ جگر پہ کبھی اک کرن کی

تجلی تو ڈال اب

کہ اس میں تری قربتوں کے حوالے کریدوں

کبھی خواب دیکھوں

تو اس میں بھی تیری ہی منزل کے

نقشے تلاشوں


مرے چاند! 

تنہائیوں کی شبِ تار مجھ سے گذاری نہ جائے

کبھی آ

کہ اب ظلمتوں کی شبوں میں

ترا نقش گویا

مجھے لیلۃ البدر کا سا گماں دے!


غلام مصطفیٰ دائمؔ

Riffat Abbas Saraiki Poetry سرائیکی کا نامور شاعر سائیں رفعت عباس




رائیکی زبان کا سب سے بڑا تہذیبی شاعر

_____________________________________________


رفعت عباس کی شاعری -------- سرائیکی خطے کے اجتماعی لا شعور اور اجتماعی حافظے کی سب سے بڑی تہذیبی بازیافت ہے -


رفعت عباس کا بیانیہ نو آبادیاتی , استعماری اور ریاستی نظام کی استیصالیت کے خلاف ایک مضبوط مزاحمتی بیانیہ ہے -


اسی بیانیے کا پھیلاؤ ہے جس میں انھیں پابلو نیرودا جیسے عظیم شاعر کی فکری ہم عصریت میسر آئی ہے - 


اسی بیانیے کی وسعت ہے جو ان کی شاعری میں اظہار پانے والے مقامی آدمی کے المیے کو جغرافیائی حدود سے نکال کر لاطینی امریکہ اور افریقہ وغیرہ کے عام آدمی کے المیے سے پیوند کرتی ہے - 


ان کی شعری عظمت یہ ہے کہ انھوں نے عام مقامی آدمی کے دکھ کو دنیا بھر کے عام آدمی کے دکھ سے جوڑ کر ایک بڑے کینوس کا نقش تصویر کیا ہے - اور شاید رفعت عباس کی یہی وہ فکری و تخلیقی جست ہے جہاں سے وہ اشو لال اور دیگر تہذیبی شاعروں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں -


مقامی اساطیر اور مقامی تہذیب و نفسیات کے تناظرات و جمالیات سے سبزے کی طرح پھوٹتا ہوا ان کا کلامیہ ایک عام آدمی کا کلامیہ ہے - آج معاصر سرائیکی شعری منظر نامے پر رفعت عباس مقامی آدمی کا استعارہ بن چکے ہیں - ان کا مؤقف مقامی آدمی کا مؤقف ہے - ان کی غزلوں , نظموں , کافیوں , حکایتوں , تمثیلوں اور گفتگو میں سانس لیتا ہوا زمینی , سماجی , نفسیاتی , سیاسی اور روحانی سطوح سے نمود کرتا ہوا لینڈ سکیپ _____ خطے کا لینڈ سکیپ ہے , جسے مقامی آدمی اپنی داخلیت اور خارجیت میں بسر کرتا ہے -


یہی وجہ ہے کہ آج ان کے کلامیے سے ایک نیا مکالمہ جنم لے رہا ہے -


حملہ آوروں اور استعماری قوتوں کے خلاف اٹھنے والی ایک مقامی آواز آج ایک عالمی آواز بن رہی ہے -


رفعت عباس 1957 کو ملتان میں پیدا ہوۓ - اب تک ان کی دس تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے :


جھومری جھوم ٹرے : 1979


پڑچھیاں اتے پھل : 1984


بھو دی بھوئیں : 1995


سنگت وید : 1997


پروبھرے ھک شہر وچوں : 2002


عشق اللہ سئیں جاگیا : 2005


مکھ آدم دا : 2008


ما بولی دا باغ : 2012


ایں نارنگی اندر : 2016


کنجیاں دا گچھا : 2019


"عام آدمی کا مؤقف " ان کے انٹرویو پر مشتمل کتاب ہے - 


یہ کتاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے مطالعے سے رفعت عباس کی ذہنی و فکری اور تخلیقی و تہذیبی ساختیات اور مقامی آدمی کے حقیقی مؤقف کی کامل تفہیم و ترجمانی ہوتی ہے -


کسی بھی بڑے تہذیبی شاعر کی طرح رفعت عباس کی جامع شعری تفہیم بھی ان کی تمام تصانیف کے سنجیدہ مطالعے کی متقاضی ہے -


ذیل کا منتخب نمونہ کلام مشتے از خروارے سے زیادہ کچھ نہیں :


اساں اینجھے قصے دی ہک کھوہی جانڑدے ہیسے

بوکے دے وچ چندر وی آندے جیکر پانڑی چِھکوں


پوری کھیڈ اچ ساڈا حصہ ایہو ہے بس رفعت

جیہڑے ویلے بادشاہ آوے' بتیاں سر تے چاووں


جرنیلیں دا ٹوکرا بھر کے چائ ودے ہیں رفعت

کیا آکھوں جو کتھاں ونج کے ایہو بار لہیجے


پنج ہزار ورہیں توں اپنڑیں بیڑی نسے ویچی

کون اے حاکم تھیندن ساڈے دریا ویچنڑ والے؟


کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ

ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا


شام تھیون توں پہلے پہلے ایجھیں وستی آسی

واہیں ٹھڈیاں ٹھڈیاں ملسن پانی مٹھڑا مٹھڑا


نقش بنڑیجن ، پُھل بدھیجن ، ٻوہیاں کندھیاں اتے

ملاں ، قاضی ، حاکم کولھوں کوٹھا دور رکھیجے


پکھی، پانڑی، لوک نیارے ،نویاں نویاں جاھیں 

ساڈے کول تاں وقت ای کینھی ڈکھی تھیونڑ کیتے


دنیا ساکوں ڈیکھ ڈیکھ تے کِھل کِھل پوندی رفعت 

سرکس دی کہیں لاری وچوں منہ کڈھ باہندے ہیسے


جتی دے ڈو پولے وی نر مادی ہوندن رفعت 

رات انہاں کوں ہک ڈوجھے دے کٹھے رکھدے ہیسے


فوجاں اپݨی بیرکیں دو اَڄ واپس ونڄِن رفعت!

ساکوں اپݨی جھمر کیتے جاء لُڑِیندی پئی اے!


اساں رفعت اوں رچھنڑی دے سامنڑے آ گئے ہاسے

جیں رچھنڑی دے تازہ تازہ بچے چاتے گئے ہن


سرخی لاوݨ ، کجلا پاوݨ لوک سیاست ساݙی

نال شہاں دے لڑدے پئے ہیں اپݨے ہار سنگھاروں


عورت دا وی قِصہ اَساں مَردیں لِکھیے رفعت

نِندروں ڈٖوہی کر سسی کُوں تھلیں رول ڈِتوسے


آپ تریمت ساڈے کولوں ڈھیر بہادر رفعت

نہ تاں ہوٹھیں سُرخی لاونڑ کیندا دل نی آہدا


ملاں ہک مشین پرانڑیں حاکم آپ بنڑائی

گلی گلی وچ لوکیں تانڑیں ڈر پچاونڑ کیتے


ہے کوئی اینجھی چوکی رفعت ہے کوئی اینجھا تھانڑاں

ہیر سیال دے قتل اُتے ونج پرچہ درج کریجے


ہک بندے کوں جادونگری ونجنڑ ڈیوو رفعت

ایڈی کلہی وسوں دے کہیں سانجھے منتر کیتے


پنج ہزار وریں دی نندر توں جاگے ہیسے رفعت

تھی سگدے جو کج نہ نظرے تھوڑی دیر اساکوں


جیڑھا کم وی حاکم آکھیانسے کیتا رفعت

اساں اپنی آلس وچوں جنگاں جیتیاں ہسے


تحریر : شاہد ماکلی


سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور انکا حل

سرائیکی وسیب کی حرومیاں اور ان کا حل

سرائیکیوں کی محرومیاں



سرائیکی وسیب کی محرومیاں اور ان کا حل

کردار صدیقی

”عوام دوست فاﺅنڈیشن“کے زیراہتمام بھکر میں ”سرائیکی وسیب دی محرومیاں تے انہاں دا حل“ کے موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ضلع بھکر کے طول و عرض سے تعلق رکھنے والے مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد کے علاوہ سرائیکی وسیب کے نامور لکھاریوں، دانشوروں، سماجی ورکرز اور سیاسی رہنماﺅں نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت راقم کے ذمہ تھی۔ تقریب کا آغازشرکاءکے تعارف سے ہوا۔ بعد ازاں راقم نے کہا کہ بے شک دنیا اکیسویں صدی کے آٹھویں سال کو عبور کرنے والی ہے لیکن پاکستان آج بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک انیسویں صدی کے وسط میں کھڑا نظر آتا ہے اور بہت سے لوگ اےسے ہیں جن کی رائے میں پاکستان آج بھی قرونِ وسطیٰ کے عہد میں سانس لے رہا ہے۔ اس کی دیگر لا تعداد وجوہ کے علاوہ ایک بڑی وجہ وسائل کی نامنصفانہ تقسیم بھی ہے۔ پاکستان کے کچھ شہروں میں تو کروڑوں روپے سے بننے والے فوارے اپنی تمام تر تب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں لیکن سندھ، بلوچستان، سرحد اور سرائیکی وسیب کے بے شمار علاقے ایسے ہیں جہاں پینے کا پانی تک میسر نہیں ، اور اگرکہیں پینے کو پانی مل بھی جاتا ہے تو انسان اور جانور اسی ایک جگہ سے اکٹھے پانی پینے پر مجبور ہیں۔بظاہر آج کے سیاسی منظر نامی میں ملک کے وزیر اعظم کا تعلق سرائیکی وسیب سے ہے اور اسی طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ کی نسبت بھی سرائیکی علاقے سے ہے لیکن کیا یہ لو گ واقعی بااختیار ہیں یا انہیں کٹھ پتلی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟ ہماری سیاسی قیادت کیا واقعی نا اہل ہے یاسیا سی بھولپن کی وجہ سے استعمال ہو جاتی ہے؟ سرائےکی وسیب کے وسیع و عریض علاقوں کو ایک نئی سیاسی اصطلاح ”جنوبی پنجاب“ میں سمیٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ غور کر نے کی بات ہی کہ یہ جنو بی پنجاب کا لفظ کیا ہے اور اس کے پیچھے کو ن سی سازش کار فرما ہے۔ دیگر مسا ئل کے علاوہ ملک بھر میں ہو نے والی مذہبی شدت پسند ی کو سرا ئیکی وسیب سے پرورش اور نمود کیو ں مل رہی ہے؟ کیا واقعی یہاں کے عوام دہشت گرد ہیں یا یہ بھی کسی عالم گیر سازش کا کوئی خاص ایکٹ ہی؟

 بات آگے بڑھانے کے لیے مائیک سرائیکی وسیب کے نامور دانشور، استاد اعجاز بلوچ کے حوالے کیاگیا۔انہوں نے سرائیکی وسیب کی محرومیوں بارے تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ اپر پنجاب کے کئی اضلاع میں ایک سے ایک بہترین کالج اور یونیورسٹیاں موجودہیں لیکن سرائیکی وسیب کو جان بوجھ کر تعلیمی اداروں سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کی اصطلاح کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور صاف طور پر کہا کہ یہ سب کچھ سرائیکی وسیب کی شناخت اور اس کے وسیع و عریض حدود اربعہ کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔

 ڈیرہ اسماعیل خان کے معروف دانشور سعید اختر سیال کو شریکِ بحث ہونے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے بڑی تفصیل سے ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود مذہبی شدت پسندی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو ڈیرہ اسماعیل خان کو بچانا ہو گا، جہاں جان بوجھ کر مذہبی شدت پسندی کو ہوا دی جارہی ہے۔اس شدت پسندی کا نشانہ، ایک خاص پلاننگ کے تحت، ایک طرف شیعہ کمیونٹی کے لوگ ہیں تو دوسری طرف انتہائی پڑھے لکھے اور صاحب الرائے لوگوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سرائیکی وسیب سے اپنی جڑت کو اور مضبوط کرنے کے حوالے سے بڑے پر زور دلائل دئیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک سرائیکی صوبہ قیام میں نہیں آتا تب تک ڈیرہ اسماعیل خان کو صوبہ پختون خواہ سے الگ کر کےسرائیکی واسیب سے منسلک کیا جائے۔ ان کے نزدیک علاقے کی سرائیکی شناخت اور لب و لہجے کو پشتونوں اور افغان مہاجرین کی زور آوری سے شدید خطرہ ہے۔ سعیدا ختر سیال کی فکرانگیز گفتگو اور سرائیکی وسیب کو لاحق خطرات پر مدلّل انداز بیان نے گویا پوری محفل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت بھکرکے معروف شاعر شاہد بخاری نے ایک نکتہ اٹھایا کہ سرائیکی وسیب کی شناخت اور سرائیکی صوبہ کے قیام میں اب تک جو خامیاں دیکھنے کو ملی ہیں ان کی ایک بڑی وجہ سرائیکی علاقے میں قیادت کا بحران بھی ہے۔ جب تک یہاں سے کوئی قد آور شخصیت سامنے نہیں آتی، سرائیکی موومنٹ خاطر خواہ نتائج حاصل کر نے سے قاصر رہے گی۔

 بات جب قیادت کے بحران پر چل نکلی تو گویا ہر طرف سے سیاسی قیادت کے بارے سوالات اٹھائے جانے لگے۔ اس موقع پر ضلع بھکر کے معروف سیاسی رہنما، ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ کو دعوت دی گئی کہ وہ سرائیکی وسیب کے مسائل اور قیادت کے بحران کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پورے سرائیکی خطے میں کوئی ایسی شخصیت موجود نہیں ہے جو کھل کر اپنے علاقے کے مسائل پر پنجاب اور مرکز کی بالادست قوتوں سے بات کر سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ   واقعی ہم لوگ مختلف طرح کی مصلحتوں

کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایلیٹ کلاس سے کسی قسم کی توقعات رکھنا عبث ہو گا۔ آپ لوگوں کو اپنے اندر سے سیاسی قیادت لانا ہو گی۔ ہم لوگ بے بس ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر اکرم میرانی نے بحث میں شریک ہو تے ہوئے کہا کہ ڈیر ہ اسماعیل خان کا مسئلہ واقعی بہت گھمبیر شکل اختیار کر تا جا رہا ہے۔ مذہبی شدت پسندی اور طالبانائزیشن، جو کل تک افغانستان کے اندر موجود تھیں، آج ہمارے سروں پر سوار ہو چکی ہےں۔ ان کے نزدیک اس خطے میں ساری لڑائی تیل اور معدنیات کے بٹوارے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ جنوب مغربی ایشیا اور سنٹرل ایشیا کے وسیع تر معدنی ذخائر کے حوالے سے مختلف عالمی قوتوں کے درمیان ہونے والی یہ جنگ، جو کچھ عرصہ قبل تک محض مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے لڑی جارہی تھی، اب ایک واضح رخ اختیار کرنے والی ہے۔ انہوں نے پیشین گوئی کر تے ہوئے کہا کہ اگلے20 سال اس خطے کے نہ صرف جغرافیہ کو بدل کر رکھ دیں گے بلکہ عالمی قوتوں کی آپسی لڑائی میں مذہبی شدت پسندی بھی تحلیل ہو کر رہ جائے گی۔ ہو سکتا ہے کل امریکہ کے بجائے کوئی اور علاقائی قوت آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان کی تمام قومیتوں میں اتحاد اور شدت پسندوں کے خلاف اتحاد وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سرائیکی وسیب کی سیاسی قیادت کو مشور ہ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک انہوں نے سرائیکی کاز کو بڑھاوا دینے کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن مستقبل کی ضروریات اور حکمت عملیوں کودیکھتے ہوئے انہیں چاہیے کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہو جائیں اور نئی نسل کو سرائیکی کاز آگے بڑھانے کا موقع فراہم کریں۔

 بعد ازاں اکرم میرانی نے گفتگو کی۔ ان کے بعد لیّہ کے معروف لکھاری پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین نے سرائیکی زبان کی ترقی اور دانشورانہ سطح پر ہونے والی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قیام پاکستان کے وقت ہونے والی مہاجرت اور ازاں بعدعلاقہ تھل میں تعمیر ہونے والی مختلف نہروں کے حوالے سے اعدادو شمار بتاتے ہوئے کہا کہ علاقہ تھل ماضی میںبڑا ترقی یافتہ اور پر امن علاقہ تھا لیکن قیام پاکستان کے وقت ہونے والی دو طرفہ مہاجرت کے بعد اس کی ثقافت کو زبر دست دھچکا پہنچاہے اور یہاں نئے آنے والوں نے مقامی کلچر اور تاریخ کو بالکل مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ علاقہ تھل میں بننے والی نہر وںسے ملحقہ علاقوں پر مہاجروں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر قبضہ کر لیا اور یہاں کے مقامی لوگوں کو اپنا مفتوح بنا کر رکھ دیا ہے۔ پروفیسر مزمل حسین کے بعد لیہ کے معروف صحافی فرید اللہ چوہدری نے جنوبی پنجاب کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ استحصالی قوتوں نے ناردرن اورسدرن زون بنا کر استحصال کو ایک نئی شکل دی ہے، تاکہ استحصالی قوتوں کو پہچانا بھی نہ جا سکے اور استحصالی عمل بھی جاری و ساری رہے۔ انہوںنے سرائیکی وسیب کی شناخت اور اس کے لیے ہونے والی جدوجہد کو مربوط کرنے پر زور دیا۔

 تقریب میں سرائیکی وسیب کے نامور لکھاری، صحافی، دانشور اور واحد سرائیکی اخبارروز نامہ” جھوک“ کے ایڈیٹر ظہور احمد دھریجہ نے سرائیکی عوام کی شناخت کے مسائل پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ سند ھ میں سرائیکیوں کو پنجابی، پنجاب میں جانگلی اور بلو چستان میں آباد کار کہہ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سرائیکی صوبے کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد پر سیر حاصل بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مظلوم قومیتوں کو حقوق تو نہیں دیتی البتہ ملک توڑ دیتی ہے۔ ظہور احمد دھریجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو سرائیکی وسیب کے حوالے سے یہ بات اب کھل کر جان لینی چاہیے کہ آج ہم صوبہ مانگ رہے ہیں ، اپنی صوبائی اسمبلی اور اپنی ہائی کورٹ مانگ رہے ہیں ۔ ان کے بعد معروف سماجی کارکن عارف حسین بخاری نے سرائیکی کاز کیلئے ہونے والی جدوجہد کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آگے بڑھ کر اور اپنے اپنے دائروں سے باہر نکل کر اپنی دھرتی اور اپنی زبان کے لیے قربانیاں دینا ہو ں گی۔ ہمیں اپنے حقوق منتوں کے بجائے لڑ کر حاصل کرنا ہوں  ان کے بعد سرائیکی زبان کے معروف محقق اور کئی کتابوں کے مصنف و مر تب شوکت مغل نے سرائیکی زبان اور سرائیکی صوبے کے حوالے سے ہونے والی جدوجہد کے اثرات اور ثمرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مایوس ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ گذشتہ 25،30 سالوں کی جد وجہد نے ہمیں ایک الگ پہچان اور شناخت فراہم کر دی ہے۔ اب سرائیکی ایشو کوئی انو کھا ایشو محسوس نہیں ہوتا۔ اب کئی کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں سرائیکی زبان پڑھائی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرائیکی وسیب کے لکھاریوں اور دانشوروں کو خو د احتسابی کا عمل بھی کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے گذشتہ پانچ سالوں کی بیلنس شیٹ بنا کر سرائیکی عوام کے سامنے پیش کر نی چاہیے کہ انہوں نے دعوے کتنے کئے تھے اور عملی طور پر اس کاز کیلئے کیا کیا۔ ضرورت کسی کے گریبان پکڑنے کی نہیں، اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ہے۔ جب تک ہم اپنی دھرتی، اپنی شناخت اور اپنی زبان سے سو فیصد مخلص نہیں ہوں گے تب تک سرائیکی صوبے کا مسئلہ ہو یا سرائیکی زبان کو پرائمری کی سطح پر پڑھائے جانے کا، یونہی خلاوں میں لٹکا رہے گا۔

 شوکت مغل کے خطاب کے بعد ”عوام دوست فاونڈیشن “کے صدر ملک احمد خان نے شرکائے محفل کا شکر ادا کیا کہ انہوں نے سرائیکی وسیب کے مسائل کے حوالے سے ہونے والی اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے آل پاکستان سرائیکی مشاعرے کے اختتام پر جناب ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے سرائیکی شاعری کے فروغ کے لیے تین رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا ” ہم سال میں ایک منتخب سرائیکی شعری مجموعے کو پرنٹ کروائیں گے۔ میں اس پیش کش کو مزید وسعت دیتے ہوئے اعلان کر تا ہوں کہ نہ صرف سرائیکی شاعری بلکہ سرائیکی زبان کے حوالے سے نثرپر مشتمل ہو یا نظم پر، ہم سال میں ایک کتاب ضرور چھاپیں گے“۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی زندگی کاایک ایک لمحہ سرائیکی زبان اور سرائیکی وسیب کے مسائل کے حل کیلئے وقف ہے۔ ملک احمد خان کے مذکورہ اعلان کے بعد شرکائے محفل سے مشورہ کے بعد تین رکنی جائزہ کمیٹی کا اعلان کیا گیا جس کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ وہ سرائیکی وسیب کی محرومیوں اور ان کے حل کے موضوع پر ہونے والی اس تقریب میں مختلف دانشوروں اور لکھاریوں کی گفتگو کو ایک مر بو ط صورت دیں تاکہ متفقہ اعلامیہ جاری کیا جا سکے۔ یہ کمیٹی اکرم میرانی ،اعجاز خان بلوچ اور پروفیسر ظہور تھند پر مشتمل تھی۔ اس کمیٹی نے بعد میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے درج ذیل مطالبات پیش کیے:

11۔ سرائیکی زبان کو پرائمری کی سطح پر سرائیکی وسیب کے تمام سکولوں میں رائج کیا جائے۔

22۔ پاکستان بھر کے تمام کالجز میں ایم اے سرائیکی کی کلاسز شروع کی جائیں اور تمام یو نیورسٹیوں میں سرائیکی چیئر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

33۔ سرائیکی اضلاع میں کم ازکم تین یو نیو رسٹیاں فی الفور قائم کی جائیں۔ ان کے علاوہ انجینئر نگ اور ایگر یکلچرل یو نیورسٹیاں بھی قائم کی جائیں۔

44۔ سرائیکی علاقے میں بالعموم اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بالخصوص بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کو سختی سے روکا جائے اور انتہاپسندوں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہ کی جائے۔

55۔ سرائیکی صوبے کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اس کا نام سرائیکستان رکھا جائے۔

66۔ سرائیکی وسیب کے مختلف علاقوں میں سرائیکی دانشوروں کے فورم بنائے جائیں جہاں جمہوریت، لبرل ازم اور ڈائیلاگ کے عمل کو رواج دیا جا سکے۔

77۔ فوج میں کم از کم سرائیکی رجمنٹ ضرور قائم کی جائے۔گے۔ 


تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے Top 20 Famous Urdu sher on Yaad

  تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے  تیری ہر ایک مہربانی یاد ہے مجھے  میرے کردار پر کی ہر بدگمانی یاد ہے مجھے تجھے میرا سچ میں رونا بھی بھول ...